23 اگست 2013 - 19:30
بکھر، کرفیو، شہدا کی نماز جنازہ ادا کر دی گئی

پاکستان کے شہر بکھر میں گزشتہ روز تکفیریوں کی فائرنگ سے شہید ہونے والے افراد میں سے دو کی نماز جنازہ کوٹلہ جام اور دریاخان میں ادا کردی گئی ہے۔

ابنا: تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز شہید ہونے والے ایف ایس سی کے طالبعلم علی رضا کی نماز جنازہ مدرسہ باقر العلوم کوٹلہ جام(بھکر)میں ہزاروں افراد کی موجودگی میں نماز جنازہ ادا کردی گئی۔ نماز جنازہ میں اہل علاقہ کی بہت بڑی تعداد موجود تھی اس کے علاوہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی بھی موجود تھے۔ جبکہ دریا خان میں شہید ہونے والے کامران کی نماز جنازہ دریاخان میں ادا کردی گئی جس میں کرفیو کے باوجود ہزاروں اہل تشیع افراد نے شرکت کی۔ اس موقع پر نماز جنازہ کے شرکاء نوحہ خوانی اور ماتم داری بھی کرتے رہے۔ جبکہ دیگر شہداء کی نماز جنازہ بعد میں اد اکی جائے گی۔ حالات کسی حد تک کنٹرول میں ہیں لیکن مختلف علاقوں میں بدستور کرفیو نافذ ہے کمشنر سرگودھا اور ڈی سی او بھکر بھی موقع پر موجود ہیں۔ بھکر، دریاخان، کوٹلہ اور کہاوڑ کلاں کے داخلی راستوں کو بند کردیا گیا جبکہ پنجاب میں داخل ہونے والی ٹریفک کو ڈیرہ اسماعیل خان میں روک لیا گیا کیونکہ مظاہرین نے کوٹلہ جام سے مرکزی شاہراہ کو بند کر رکھا ہے۔ادھر چیف سیکریٹری پنجاب جاوید اسلم نے کہا ہے کہ بھکر میں صورتحال مکمل کنٹرول میں آنے تک کرفیو نافذ رہے گا، کسی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دیں گے۔ لاہور میں چیف سیکریٹری پنجاب جاوید اسلم کی صدارت میں بھکر کی صورتحال پر اہم اجلاس ہوا جس میں آئی جی پولیس پنجاب، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری اوقاف، سیکریٹری اطلاعات اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ چیف سیکریٹری جاوید اسلم کا کہنا تھا کہ بھکر میں کسی کوقانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ واقعہ کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ایک بیان میں شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ گذشتہ روز ذاتی دشمنی کی بنا پر معروف فتنہ پرست گروہ اور کالعدم جماعت کے مقامی رہنما کے قتل کو شرپسندوں کی جانب سے مذہبی رنگ دے کر ضلع بھر میں اشتعال اور فتنہ و فساد کو ہوا دی گئی اور قانون کو ہاتھ میں لے کر نہ صرف مسلمہ اسلامی مکتب فکر کے خلاف غلیظ نعرہ بازی کرکے مقدسات کی توہین کی مذموم کوشش کی گئی بلکہ معصوم اور نہتے عوام پر بلااشتعا ل فائرنگ کی گئی جس سے کوٹلہ جام حسینی چوک میں چھ افراد کی شہادت اور درجنوں شدید زخمی ہوگئے۔ ستم ظریفی کی انتہا ہے کہ مقامی انتظامیہ بدستور خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہی ہے جس سے پورے علاقے میں خوف و ہراس اور کشیدگی پائی جاتی ہے۔جبکہ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے رہنماوں نے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب کے شہر بھکر میں ہونے والے اندوہ ناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہیں جہاں پر کالعدم جماعت کے مقامی دہشتگردوں نے کئی گھنٹے تک پورے شہر کو یرغمال بنائے رکھا۔ وحدت ہاؤس میں منعقد ہونے والے اجلاس میں کراچی کی ماتمی انجمنوں، ذاکرین ،مساجد و امام بارگاہ اور مدارس کے ذمہ داروں نے شرکت کی۔ رہنماؤں نے بتایا کہ دہشت گردوں نے ن لیگ کے رہنما رانا ثناء اللہ کی ایماء پر ڈی پی او بکھر کی سرپرستی میں شہر بھر میں اسلحہ کی بھرپور نمائش کی اور تکفیری نعرے بلند کئے، یہ سب تماشہ ہوا اور انتظامیہ خاموشی سے دیکھتی رہی بلکہ ان دہشت گردوں کی محافظ بن کر کھڑی رہی اوراس واقعہ میں عملاً ان دہشت گردوں کی پشت پناہ نظر آئی۔ رہنماؤں نے کہا کہ ان دہشت گردوں نے کوٹلہ جام اور دریا خان میں اہل تشیع افرادکے گھروں پر حملہ کیا اور چادر اور چاردیواری کے تقدس کو پامال کیا گیا، اس موقع پر دہشت گردوں نے اندھا دھند فائرنگ کی اور ہمارے چار فعال افراد کو شناخت کرکے شہید کیا جبکہ ان کے علاوہ تین افراد شدید زخمی ہیں۔

.....

/169